117

تَلخ حقیقت

کامیابی کا پہلا زینہ:
آپ کے روز مرہ کے اُصول، سلیقے، طریقے، طرزِ عمل اور منشا و مقاصد،سبھی آپ کی زندگی کے اہم موضوعات ہیں۔ اِن میں کمی بیشی لانے کا مطلب خود کی زندگی کو مُشکل میں ڈالنا ہے۔ اِن موضوعات کی تشریح و تعبیر ہی آپ کو حقیقی اِنسانیت سے باخبر کردے گی۔جس دن آپ سمجھ گٸے کہ آج آپ کی زندگی کا اہم موضوع اِختتام پذیر ہوا تو یقین جانیں کہ آپ کی ذات کو ایک سُکون میسر ہوگا اور وہ لمحہ آپ کی زندگی کا ناقابلِ فراموش واقعہ ثابت ہوگا۔ شاید آپ الفاظ کی تُک بندی کرکے ایک پوری کتاب بھی ترتیب دے سکیں۔ بعض اوقات زندگی کے ایک پہلو کو سمجھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کی شخصیت میں ایک تبدیلی آگٸی ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو سمجھنے کےلٸے ایک طویل بحث و مُباحثہ ہو جس میں رنگینی و سنگینی کے دونوں پہلو موجود ہوں۔ میں نے مُشاہدہ کیا ہے کہ بعض افراد کی زندگی میں سنگینی تو بہرحال موجود ہے البتہ رنگینی (زندگی کی سُکونت) خال خال ہی دیکھی ہے۔ بس! یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں آپ نے زندگی کی چاشنی پر خزاں کو طاری نہ ہونے دینا ہے۔
”کیا خوشی کے چہرے کو ”ٹینشن“ کے تیزاب سے مُعطر کرنا اچھا اور محفوظ عمل ہے؟“
آپ کی سوچ، آپ کی فکر اور آپ کا طرزِ عمل آپ کا غرور ہے اور فخر ہے۔ خود پر بھروسہ اتنا رکھیں کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جاٸے مگر آپ کا بھروسہ کبھی بھی مُتزلزل نہ ہو۔
یاد رکھیں کہ! تیز و تُند ہواٸیں چلیں گی اور سب کچھ ختم ہونے کا اثر بھی ظاہر ہوگا لیکن آپ نے ایک عزمِ مُصمم کا ارادہ کرنا ہے اور ہر اُس عمل کو بجالانا ہے جو آپ کو بُلندیوں تک پہنچاٸے۔
فیصلہ سازی میں کبھی جلد بازی نہ کریں۔ لمحوں کے فیصلے بعض اوقات پچھتاٶے کے باعث بنتے ہیں۔ جو لوگ زندگی سے ہار جاتے ہیں وہ بہت ڈرپوک اور بُزدل ہیں ایسے لوگوں کو کوٸی بھی پسند نہیں کرتا۔ لوگ پسند کرتے ہیں ایسے شخص کو جو عزم کا غازی ہو۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ سمجھنے کے مرحلے سے گزرے اور صحیح وقت کا اِنتظار کرے۔
خطرناک مرحلہ:
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض لڑکے پہلی ہی جَھلک میں کسی لڑکی سے مُتاثر ہوتے ہیں۔ اُس لڑکی کا سراپا حُںسن اُن کی نظروں میں سب سے زیادہ دلکش اور پُرکشش لگتا ہے۔ اُن کو نہیں معلوم کہ جس لڑکی کےلٸے آہیں اور حسرتیں اُچھل اُچھل کر نکل آتی ہیں وہ لڑکی کل کلاں مل بھی گٸی تو قیامت ثابت ہوگی۔پھر جو پیار و محبت کا دعویٰ تھا وہ پُھر ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً سینہ کوبی اور افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں لڑکیاں چکنی چیڑی باتوں میں بہت جلد پھسل جاتی ہیں۔ بعض لڑکے تو اپنی جھوٹی شان اور کاغذی دولت کے ذریعے کسی لڑکی کو ”پھنسانے“ میں کامیاب ہوتے ہیں۔ شاید لڑکی کی نفسیات میں یہ بات بہت زیادہ معنی رکھتی ہے کہ اُس کو ایسا ہمدرد چاہیٸے جو شروع شروع میں بہت سُناٸے (ڈھیر ساری باتیں کرے) باقی زندگی بھر سُننے کی ”غلامی“ اختیار کرلے۔ وہ جو پھرپور توجہ اور دل کا عشق قریب سے گزرنے والی قیامت سے جاگ اُٹھا تھا وہ وقت کے ساتھ ساتھ سرد مُہری کا شکار ہوجاتا ہے۔ تب تک لڑکے کی نظروں سے أُس لڑکی کا سراپا حُسن غاٸب ہوچکا ہوتا ہے۔
لڑکا اور لڑکی کا باہمی ایک دوسرے میں ضم ہونا، عشق زدہ ہونا اور شادی شُدہ ہونا دو پہلو سے خالی نہیں:
اوّل: یہ کہ اگر ”حادثاتی“ طور پر بھی کوٸی دوشیزہ جال میں پھنس گٸی اور نکاحِ شریف کا فریضہ بھی انجام پایا تو یہ اُس لڑکے کی قسمت کا عظیم دِن ہوگا۔ دیوانے قسم کے دیگر لڑکے رشک کریں گے اور اُن کی زبان پر ایک ہی کلمہ ورد ہورہا ہوگا کہ:
”حُور کی بغل میں لنگور“
”کیا قسمت پاٸی ہے۔ کسی بھی پہلو سے نہیں لگتا کہ چاند کو گہن نے دبوچ لیا ہے۔“
یہ جُملہ مزید تشریح اور تبصرے کا بیانیہ ہوتا ہے۔ اِس جُملے کے توسط سے دل کی بھڑاس نکالنے جیسے اُمور انجام دیٸے جاسکتے ہیں۔ لیکن اصل حقیقت تو یہی ہے کہ باہمی اِنضمام کا تعلق اِنسان کے دل سے ہے۔ جہاں قسمت نے ساتھ دیا وہی آپ کی کوششیں اور کاوشیں رنگ لے آتی ہیں۔
دوم: یہ کہ جس بھی دوشیزہ نے اپنی جوانی کے دِن اس انتظار میں گزارے کہ خوابوں کے شہزادے کا حصول ایک اتفاقیہ اَمر ہوسکتا ہے۔ وہ دراصل روایات اور رسومات کی جیتی جاگتی تصویر کہلاسکتی ہے۔ یا
سرِ تسلیم خم کی اعلیٰ سیرت اور بزرگوں کی اطاعت کی ایک صورت ہوسکتی ہے۔ لیکن اِس حقیقت کو جُھٹلانا ممکن نہیں ہے کہ اِس میں سماج کے قریبی راز پوشیدہ ہیں۔ ان جیسی مثالوں نے آج کے سماج کو مضبوط سہارا فراہم کیا ہوا۔ ایک ساعت کےلٸے رُک جاٸیں اور سوچیں ذرا اگر سماج کی ہر کڑی آزاد پسندی کی پرتُو بنے اور لوگ حدود و قیود سے آزاد رہ کر سب کچھ کر گزرے تو پھر سماج میں انتشار کی بھیانک صورت حال پیدا ہوگی۔ سماجی نظم و ضبط کےلٸے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر کوٸی قواعد و ضوابط کا اعلیٰ مثال بنے۔ آج کی دوشیزاٶں کو اِن جیسی مثالوں سے اپنی مثال ثبت کرلینی چاہیٸے۔ وہ اجنبی لڑکا جو کبھی آپ کا تھا نہیں، جس سے جان پہچان نہ تھی، وہ اچانک آکر کسی لڑکی سے کہے کہ ”مجھے تم سے بے اِنتہاء محبت ہے اور اِس محبت کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے ماں باپ عزیز و اقارب سے رشتے ناطے توڑ کر میرے ساتھ نتھی ہوجاٶ۔“
میری نظر میں اس قسم کے تقاضے اِنتہاٸی لغو اور لایعنی ہیں۔ یہ تقاضا جس کی عقلی اور سماجی توجیہہ ہو ہی نہیں سکتی اُس کو عملی جامہ پہنانے کا عمل انجام دے کر توقع رکھنا کہ سماج میرا ہمدرد بنے تو یہ توقع بے تُکی قرار دی جاسکتی ہے۔
ابتداٸی طور پر کسی مرد کا عورت کی طرف اور کسی عورت کا مرد کی طرف توجہ دینا تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہ اِنسانی فطرت ہے کہ وہ صِنف مُخالف میں کشش محسوس کرتا ہے۔خلقتِ انسانیت کا اہم مقصد بھی یہی ہے کہ دونوں صنفوں کی بعض خصلتیں اور عادتیں اس لٸے بھی مماثلت رکھتی ہوں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے اور باہمی زندگی گزارنے کے سلیقہ سے آشناء ہوں۔ تبھی تو اِنسانوں میں بود و باش کا آسان راستہ ذریعہ معاش پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ صنفِ مُخالف سے متاثر ہونا بھی قرار پایا ہے۔ کیا یہ عقلی بات ہوسکتی ہے کہ پہلی نظر کو زندگی بھر کا سرمایہ قرار دیا جاٸے؟ چی جاٸیکہ ابھی چان پہچان نہیں ہوٸی۔ ذہنی ہم آہنگی کی کوٸی صورت پیدا نہیں ہوٸی۔ پھر بھی بضد رہنا کہ ”مجھے پیار ہوگیا ہے“ ایک جذباتی اور وقتی فیصلے کے سواء کچھ نہیں۔ ہاں! کچھ ڈھیٹ قسم کے نوجوان اِس عمل کو بھی دُرست اور شریک حیات کے انتخاب کا بہترین راستہ قرار دیتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ یہ عمل (پہلی نظر کا پیار) بھی حادثاتی طور پر ہوجاتا ہے اور بڑی تگ و دو کے بعد تیر نشانے پر لگ ہی جاتا ہے۔ ہاں! اِس نوع کے تجربات سے آگاہی کےلٸے ”مجاہدینِ عشق“ کی فوج سے بہرحال رابطہ رکھنا ہوگا۔ وہ بتاٸیں گے کہ جنگل میں مورنی کے ناچنے کا قلق اور دل میں حُور کو سمونے کا تلخ کس قدر بھیانک ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں