اسلامی جمہوری پاکستان کو آزاد خود مختار ملک ہونے کے ناطے ستر سال گزر گئے۔ ان ستر سالوں میں بہت سے نشیب وفراز آئے جن میں دو بڑی جنگیں، سقوط ڈھاکہ، بار بار فوجی مداخلت، سیلاب آندھیاں، بٹھو کو پھانسی، افغانی پناہگزین، محترمہ بے نظیر کا قتل، ایران اور سعودیہ کی مذہبی مداخلت ، مغربی ممالک اور امریکہ کی قرضہ دینے کی شرائط کے ذریعے اندرونی معاملات میں مداخلت، کرپشن، اقبراء پروری، نا انصافی، غربت اور پچھلے دس پندرہ سال سے دہشتگردی کی لعنت ۔ ان تمام مایوس کن وجوہات کی وجہ سے جرائم کے ساتھ ساتھ مذہبی جنونیت بڑھی اورجہالت نے مذہبی لبادہ اوڑھ کر نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے ساتھ ذہنوں میں نفرت کا بیج بو دیا ۔ اب ہر کوئی اپنی دکان چمکانے کے لیے دوسروں کو کافر ہونے کے فطوے لگانا شروع ہو گیا ہے۔
ان تمام برائیوں کے ساتھ آزادی کے نام پر ایک بے لگام اور بدتمیز میڈیا پیدا ہوا جس نے مذہبی اور لسانی تعصب کو پھلانے میں بہت برا کردار ادا کیا۔ چاردیواری کے تقدص کو پامال کیا۔ ملزم کو ثبوت کے بغیر اور عدالتی کاروائی سے پہلے ہی مجرم قرار دےدیا۔ اس کے علاوہ قومی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر ہر اس خبر کی تشہیر کرنے لگے جس سے قومی مفاد کو نقصان پہنچتا ہو، تعصب، نفرت اور فرقہ واریت پھیلتی ہو مگر اس میڈیا کو صرف اپنی دیکھنے والوں کی تعداد کی فکر تھی قومی مفاد کی نہیں۔ جب بھی حالات خراب ہوئے تو ایک خاص طبقے نے واویلا کرنا شروع کردیا کہ خدانخوستہ اب پاکستان ختم ہو جائےگا۔
ایک طبقہ وہ بھی ہے جو بیرون ملک خاص کر کے یورپ میں مقیم ہے ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ بڑے عرصہ سے پاکستان نہیں گئے مگر دنیا کی تما برائیاں ان کو پاکستان اور فوج میں نظر آتی ہیں اور ان کی نظر میں پاکستان وہ ہے جو یہ بے لگام میڈیا پاکستان کی تصویر دکھاتا ہے۔ مگر ان کنویں کے مینڈکوں کو یہ نہیں معلوم کہ تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے. جب بھی مایوس کن حالات پیدا ہوئے تو پاکستانی قوم اللہ کا نام لے کر بار بار اٹھی اور بڑی بڑی قربانیاں دینے کے باوجود اپنے ملک کے لیے ثابت قدم رہی۔
ایک اور خوش آئند بات یہ ہوئی کہ ہماری پاک فوج نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اپنی قوم کی خدمت شروع کردی اور سابقہ پندرہ سالوں میں دہشتگردی اور دوسرے دشمن عناصر کو ختم کرنے کے سلسلے میں عظیم قربانیاں دیں۔ اور لگاتار تین بار سول حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کے لیے تعاون کیا۔
پاکستان میں بیس کروڑ آبادی ہے اور آبادی کے لحاؑ ظ سے بڑے بڑے( میگا سٹی) شہر ہیں۔ دنیاں کے دوسرے بڑے شہروں کی طرح ہمارے بڑے شہروں میں بھی ہر قسم کے جرائم پائے جاتے ہیں اور ضروری ہے کہ ہم ان معاشرتی برائیوں کے خلاف بات کریں ان کے اسباب کے بارے جاننے کی کوشش کرتے ہوئے ان کا سدباب کریں مگر اسکا مطلب ہر گز نہیں کے جرائم صرف پاکستان میں ہوتے ہیں۔ جرائم کا تعلق مذہب اور قومیت سے نہیں ہوتا بلکہ جرائم کا تعلق سماجی طبقوں سے ہوتا ہے۔
جو لوگ ہر وقت پاکستان کے بارے منفی سوچ اور منفی باتیں کرتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف برائی ہی برائی ہے تو ان کو چاہیے کہ پاکستان کے پڑوسیوں پر نظر ڈالیں۔ اور یہ دیکھیں کہ ان مایوس کن حالات میں میں پاکستان ایک ایٹمی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ کیسے کیسے کھلاڑی، گلوکار، اداکار، فنکار پیدا کیے ہیں۔ جہانگیر خان، جان شیر خان ، عمران خان ، وسیم اکرم جاوید میانداد۔
مہدی حسن، ملکہ ترنم نصرت فتح علی خان ، محمد علی عبدال ستار ایدھی اورڈاکٹر قدیر خان جیسے سپوت پیدا کیے ۔ ہمارےکسان ، ہمارے مزدور ہمار فوجی۔ میں کس کس کا ذکر کروں اور کس کا نہ کروں۔ اگر اپنی مٹی سے محبت ہو تو برائیوں کے ساتھ اچھائیاں بھی نظر آتی ہیں۔ اور جو کالے انگریز بنتےہیں اور غلامانہ سوچ رکھتے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ پاکستان زندہ باد۔