تحریک انصاف سویڈن کے انٹرا پارٹی انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سویڈن میں انٹرا پارٹی انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہوچکی ہیں۔ جس میں متعد گروپ مدمقابل ہیں۔ عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی سویڈن کی کاروباری شخصیات اور مختلف پاکستانی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد جو آج تک عمران خان کے خلاف بات کرتے تھے اور بُرا بھلا کہتے تھے اب تحریک انصاف کی رکنیت حاصل کر رہے ہیں اور رکنیت سازی کی مہم چلاتے نظر آرہے ہیں۔ جس سے سویڈن میں پاکستانی برادری میں کھیچا تانی اور غیر مناسب مقابلے کی فزاء قائم ہورہی ہے۔
تحریک انصاف سویڈن کے انٹرا پارٹی انتخابات کا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے اور جس کی کھلی خلاف ورزی بھی کی جارہی ہے۔
تحریک انصاف کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق میں سے چند نقات کی نشاندہی کرنا یہاں بے حد ضروری ہے۔ وہ کون سی سرگرمیاں ہیں جس کے نتیجہ میں امیدوار اور اراکین بدعنوانی عمل کے ذمرے میں آتے ہیں۔ کن عوامل اور سرگرمیوں میں پائے جانے والے امیدوار نااہل ہوسکتے ہیں یا ان کی رکنیت بھی خارج کی جاسکتی ہے۔ وہ چند اہم نقات یہ ہیں تفصیلی دستاویز کے لیے یہاں کلک کریں:

× ووٹ کی خرید و فروخت، ووٹ کے بدلے مالی یا کسی بھی قسم کی حمایت کا یقین دلانا، اراکین کو آن لائن رکنیت پورٹل سے آگاہ نہ کرتے ہوئے اپنے طور پر رجسٹر کرنا، یا ان کی رکنیت اور دستاویز کو مسترد کرنا، اراکین کے اعداد و شمار، ان کے پتہ، رابطے کی تفصلات رکھنا، اراکین کے موبائل سم کو قبصہ میں رکھنا، تشدد کی دھمکیاں دینا۔

× جعلی ٹائٹل یا غلط معلومات یا پیغام دینا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی میں آتا ہے جس کی بنا پر نااہل قراد دیا جا سکتا ہے۔

× کوئی امیدوار اپنی باڈی یا کمیٹی کا اعلان خود نہیں کر سکتا۔ یہ واضح ہونا چاہیئے کہ تمام معلومات اور مواصلات او آئی سی اور الیکشن کمیشن بذریعہ www.insaf.pk ہوں گی۔

× قیادت کی جانب سے پوسٹر، آڈیو پیغام، ویڈیوز کو تشہیری مہم کو طور پر کسی امیدواریا پینل کی ذاتی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ تمام سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ، واٹس ایپ گروپ یا ای میل کے ذریعے جو بھی اس کی خلاف ورزی میں پایا جاتا ہے اس سے سختی سے نمٹا جائےگا۔

اسی طرح اس دستاویز میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں تشہیر، معلومات اور پیغامات کے حوالے سے واضح قوانین و شرائط موجود ہیں۔
میری ان تمام حضرات سے گزارش ہے جو سویڈن میں تحریک انصاف کی قیادت کی ذمہ داریاں سنمبھالنے کے خواہشمند ہیں کہ برائے مہربانی 27 صفحوں پر مشتمل یہ دستاویز پڑھنے کی ضہمت کریں۔

تحریر کے اختتام پر اگر میں اس بات کا ذکر نہ کروں تو ناانصافی ہوگی. ہماری خواتین جو کسی بھی یورپی ملک کی خواتین سے پیچھے نہیں ہیں اور ہر شعبہ میں اپنا بھر پور حصہ ڈال رہی ہیں اس طرح کے اجتماعات یا سرگرمیوں میں حصہ لیتی نظر نہیں آتی ہیں۔ ایسا عین ممکن ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جاتا ہو. کیونکہ ان کی پاکستان کی سیاست میں دلچسپی نہیں، یہ میں نہیں مان سکتا۔ شاید ہی کسی پینل نے کم از کم ایک خاتون کی نمائندگی کی شمولیت کے لیے کوشش کی ہو ۔