کامیاب کاروباری ہونے کا دارومدار آپ کی عظیم قیادتی صفات پر ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کے پاس بہترین آئڈیاز، وسیع مارکیٹ اور ایک متحرک ٹیم موجود ہے، بطور ایک لیڈر یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آرگنائزیشن کی ساکھ کو برقرار رکھیں اوراپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کریں ۔ لوگوں کی کی بہترین کارکردگی کا اعتراف کریں اور سراہیں ۔تنقید سے زیادہ موثر تعریف ہوتی ہے کیونکہ تنقید سے ہمت کم ہوتی ہے۔ بہتر اقدامات و اصلاحات ہی آپ کے کاروبار یا تنظیم کی کامیابی کا سبب بنتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایک بڑے رہنما یا لیڈر میں پائی جانے والی خصوصیات کے حوالے سے اکثر لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ اپنی قیادتی کامیابیوں کے حصول کی گہرائی میں جانے سے پہلے اس بات کا جائزہ ضروری ہے کہ کہیں آپ اچھے لیڈر سے متعلق خرافات اور غلط فہمیوں کا شکار تو نہیں ہیں۔

موثر رہنمایا لیڈر پیدا ہوتے ہیں

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لیڈر بنتے نہیں، پیدا ہوتے ہیں اُن میں قیادتی صفات پیدائشی ہوتی ہیں۔ یہ تاثر درست نہیں ، انسان کی جین کسی شخص کو لیڈر نہیں بناتی ۔ بعض افراد خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں اور یہ سچ ہے کہ جینیاتی خصوصیات جیسے آزادی اور خود اعتمادی کچھ افرا د میں منتقل ہوتی ہے جو دوسروں کے مقابلے موثر لیڈر بننے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں لیکن موثر لیڈر بننے کے لیے بہت کچھ سیکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ قیادت کسی بھی ہنر اور مہارت کی طرح ہے۔ خود اعتمادی اور حوصلہ افزائی سے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ہم سب مہارت کی ایک ہی سطح سے شروعات کرتے ہیں لیکن عملی مشقیں اور تجربات ہی آپ کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کے آپ لیڈر پیدا نہیں ہوئے ہیں ، تو اپنا موازنہ کریں۔ آپ کے پاس وہ سب کچھ ہے جو ایک اچھے رہنمایا لیڈر میں ہونا چاہیے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ کے اندر چھپی صلاحیتوں کو نکھارنے اور اس کی تعمیر کرنے میں وقت درکار ہے۔

لیڈر کے پاس تمام مسائل کا حل اور جوابات ہوتے ہیں

بدقسمتی سے لیڈرکو اکثر ایک ایسے پیش گو کی طرح سمجھا جاتا ہے جس کے پاس طلسماتی طور پر تمام سوالات کے جوابات موجود ہوں۔ لیڈر کو بغیر مشورے کے علیٰ سطح کے فیصلوں کا جواز حاصل ہو، کسی بھی درپیش مشکل میں ملازمین کو سہی سمت کی رہنمائی کرانا یا لیڈر کے پاس تمام مسائل کا حل ہونا لازمی ہے۔
یہ بالکل درست نہیں ہے۔ اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ ایسے دقیانوسی تصوراتی لیڈر افسانوں اور فلمز میں ہی مل سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بطور لیڈر آپ سب سے بڑی غلطی تب کرتے ہیں جب آپ کو یہ غمان ہوجائے کے آپ کے پاس تمام سوالات کے جوابات اور ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ بہترین لیڈر سمت کا تعین کر سکتا ہے، رہنمائی، اپنا نقطہ نظر فراہم کر سکتا ہے ۔ لیڈر اپنے ماتحتون کی حوصلہ افزائی کرتا رہتا ہے، جس سے ماتحت اس کے ساتھ مخلص رہتے ہیں اور اس طرح طے شدہ اہداف کو عبور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

لیڈر کو اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیئے

انتہائی غصہ کے عالم میں دفتر میں چیزیں پھینکنے اور چیخ پکار سے کوئی بھی معقول انسان گیرز کرےگا اور خاص کر لیڈر کے لیے اپنے جذبات کے اظہار کرنے کا یہ مناسب طریقہ نہیں ہے۔ اپنے جذبات کو لے کر محتاط رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کے آپ اپنے جذبات کو مکمل طور پر دبا دیں۔ اپنے وقت کے کچھ عظیم لیڈر ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے جذبات کے اظہار کی طاقت سے بہترین نتائج حاصل کیے ہیں۔ اگر آپ پُر جوش ہیں یا مایوس ہیں تو اس کا مناسب انداز میں اظہار کریں۔

نمائشی وضع کامیاب لیڈر کا لازمی جزو

ایک لیڈر عام طور پر اُسے سمجھا جاتا ہے جو بلا جھجک مجموعہ میں بات کرنے کو تیار ہوتا ہے، جرات مندانہ فیصلے کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیڈرشپ سے قوت، اقتدار واختیارات، عزت واحترام، شہرت اور بہت سی دوسری کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ محض چٹک مٹک سے یا نمائشی وضع سے لیڈر ذرا دیر کے لیے اپنی طرف نگاہوں کو راغب کر سکتا ہے اور اپنی شخصیت کو پر اثر بنا سکتا ہے۔لیڈر شپ کی صلاحیتیں محنت اور احتیاط سے سیکھنی پڑتی ہیں۔ اسی طرح قدامت پسند ، کم گو لیڈر بھی ہوتے ہیں جو اپنے کام انتہائی محنت اور لگن سے کرتے ہیں۔ ایک بہترین لیڈر ہونے کے لیے آپ کو مشہور شخصیت ہونا لازمی نہیں۔
اپنے آپ کو صورت، رنگ، قد یا صحت کی بنا پر کم تر سمجھنا درست نہیں۔ حقیقتا ایک پرکشش شخصیت ہونے کے لیے ان چیزوں کی اہمیت بنیادی نہیں ، ثانوی ہوتی ہے۔ بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جیسے لارڈ بائرن ایک پیر سے لنگڑے تھے لیکن اس کے باوجود ایک طاقتور شخصیت تھے۔ نپولین کا قد چھوٹا تھا مگر وہ بھی ایک طاقتور شخصیت تھے۔ دراصل ایک بہترین لیڈر میں گفتگو کا سلیقہ، اخلاق، نشست کا انداز ، لب و لہجہ وغیرہ جیسی صفات کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

لیڈر شپ ایک تنہا شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے

ایک شخص کاروبار کی بنیاد رکھتا ہے اور ابتداء میں بنیادی لیڈر کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ واحد ادارے کا لیڈر ہے۔آپ کے شراکت دار اور مختلف محکموں کے سربراہان بھی لیڈر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں۔ آپ کا ذمہ داری یہ ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے کردار کو سنجیدگی نبھاتےرہیں۔ وہ آپ کی طرح اعلیٰ سطح فیصلے نہیں کر سکتے لیکن ان کے کام کرنے کا انداز ، لب و لہجہ اور رویہ ان کے ماتحت کام کرنے والوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ بہتر نتائج کے حصول کے لیے تمام شعبوں کے سربراہان پر اعتماد کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں.