بچھ رہی ہے بساط سیاست دیس میں میرے ایک بار پھر

پھر لوٹی جاۓگی روش قدیم پرمعصوم عوام ایک بار پھر

گھاٹے اور خسارے سے بعید جشن غلامی میں مصروف نابلد عوام ایک بار پھر

مانند مثل دیروز و گذشتہ پرانے پیادے پرانے سوار پرانی چالیں دہرائیں گے ایک بار پھر

حصول ووٹ کی خاطرمنافقت و لاف وزنی کے بازار سجائیں گے دین و نسل کے نام پر
پھر تیر چلائیں گے آزمودہ و شناسا چہرے ایک بار پھر

بدبختی سے وہ کھیل رہے ہیں سیاست کا کھیل ایک بار پھر

ورطہ حیرت ہوں میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہونے والا ہے؟
جو کچھ ہو چکا محو ہو سکے گا ایک بار پھر؟

ان کی تیرہ کاریوں کا کوئی حساب لے پاۓ گا؟
قوم کو سچے قائد مل سکیں گے ایک بار پھر؟