سال رواں دنیا کے کئی ملکوں کو شدید سمندری طوفان کا سامنا درپیش رہا. ان متاثرہ علاقوں میں امریکہ، بھارت، جاپان، چین، فلپائن اور نائجیریا شامل ہیں. جولائی میں بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں مون سون کے موسم میں آنے والے طوفان سے چارسو تراسی (483) افراد ہلاک، چودہ (14) لاپتہ اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے. ستمبر میں امریکی ریاست شمالی کیرولینا میں ‘فلورنس’ نامی طوفان سے سات افراد ہلاک اور لاکھوں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے. نیشنل ویدر سروس کے مطابق یہ طوفان چار سو (400) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آیا اور اس میں لہروں کی اونچائی دس فٹ تھی. جس کی بدولت بڑے پیمانے پر طوفان کی زد میں آنے والے علاقے میں تباہی و بربادی پھیلی. اسی ماہ فلپائن میں آنے والے ‘منگ کھٹ’ طوفان سے پچاس افراد ہلاک ہوئے اور اب یہ طوفان ہانگ کانگ تک اور چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ تک پہنچ چکا ہے. اس طوفان میں ہوا کی رفتار ایک سو باسٹھ (162) کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے. اوائل ستمبر میں جاپان میں ‘جیبی’ نامی طوفان ساحل سے ٹکرایا. جس میں ایک سو بہتر (172) کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلنے والی تیزوتند ہواؤں نے شدید تباہی مچائی اور دس افراد کی ہلاکت سامنے آئی. علاوہ ازیں اس سال کے سیلاب سے متاثرہ ممالک میں نائجیریا بھی شامل ہے جہاں دریائے نائجر اور بینو میں سیلاب کے آنے سے سو افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے.
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ تیز ہوائیں اور شدید بارشیں کسی بھی طوفان کو اس قدر خطرناک بناسکتی ہیں کہ اس کی راہ میں آنے والی ہر چیز صفحہ ہستی سے مٹ سکتی ہے. ایسے میں مکان و املاک کو تباہ ہونے سے بچانا نہایت مشکل ہے البتہ بہتر حکمت عملی اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے.اس سلسلے میں یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ لوگوں میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا شعور ہو اور وہ اس پر عمل کرنے کے لیے تیار رہیں.
ان سیلابوں و طوفانوں کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ان کو مخصوص مقامی ناموں سے جانا جاتا ہے . جیسے فلورنس، جیبی، گورڈن، نیلوفر، وایو، منگ کھٹ وغیرہ وغیرہ. ان ناموں کو ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن منتخب کرتی ہے. یہ سلسلہ 1953 سے شروع ہوا. ابتداء میں صرف خواتین کے نام چنے جاتے تھے لیکن 1979 میں بعض ممالک کی خواتین کے احتجاج پر مردوں اور خواتین دونوں کے نام شامل کیے جانے لگے. ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق طوفانوں کو نام دینے کا مقصد ایک تو ان کو یاد رکھنا اور دوسرا فوری مدد کے لیے رابطے میں آسانی کا ہونا ہے. یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن 2022 تک دنیا میں آنے والے طوفانوں کے نام شائع کرچکی ہے.
کرہ ارض پر بنی نوع انسان کی موجودگی پچیس لاکھ سال کے شواہد رکھتی ہے. ماہرین، انسانی ادوار کو تین حصوں میں بانٹتے ہیں، حجری یا پتھر کا دور، کانسی کا دور اور لوہے کا دور. آج ہم علم آثار قدیمہ اور جدید سائنسی آلات کے توسط سے بخوبی جانتے ہیں کہ بنی نوع انسان ان ادوار میں کس طرح رفتہ رفتہ ترقی کر کے جدید دور میں داخل ہوا. اس ترقی کی بدولت وہ جہاں آسمانوں پر کمندیں ڈالنے لگا ہے وہیں اس کی اپنی بقا کی صلاحیت میں بھی خاصی بہتری ہوئی ہے. ان قدرتی آفات کو ہی لے لیجئے، زمانہ قدیم میں انسان ان آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا جو اسے شدید نقصان پہنچاتی تھیں. نتیجے کے طور پر وہ انہیں دیوی دیوتاؤں کے مرتبے پر فائز کردیتا تھا. ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اور ان کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے ان کے آگے جھکتا، گڑگڑاتا، نذریں مانتا، چڑھاوے چڑھاتا اور نذرانے پیش کرتا تھا. جیسے یونانی سمندر کے دیوتا ‘پوسائیڈن’ ، اہل عراق، ہوا اور طوفان کے دیوتا ن ‘ان لیل’ اور اہل مصر سیلاب کے دیوتا ‘ہاپی’ کی پرستش کرتے تھے. ہاپی، جو دریائے نیل میں رہتا تھا اور غضب ناک ہونے پر سیلاب کے ذریعے اہل مصر کی فصلوں کو تباہ و برباد کردیتا تھا. کہا جاتا ہے کہ اس کی ناراضگی سے بچنے کے لیے اہل مصر ہر سال ایک مقررہ دن میں ایک خوب صورت جوان لڑکی کو بھینٹ کے طور پرنیل کی نظرکردیتے تھے.
آج اگرچہ انسان ان آفات سے نبرد آزما ہونے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے مگر ان پر مکمل قابو پانے سے پھر بھی قاصر ہے. یہ ضرور ہے کہ اب جدید علوم و ٹیکنالوجی کے باعث سیلاب و طوفانوں و دوسری آفات ارضی و سماوی سے پیشگی واقف ہوجانے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے زیاں سے بچا جا سکتا ہے مگر بعض اوقات یہ آفات ارضی و سماوی ناگہانی بن کر نازل ہوجاتی ہیں جیسا کہ (جیولوجیکل سروے کے مطابق) 2004 میں بحر ہند میں 9.1 کی شدت سے آنے والے سمندری زلزلے اور طوفان (سونامی) سے چودہ ممالک کے دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور 2005 میں پاکستان میں 7.6 کی شدت سے آنے والے زلزلے میں چھیاسی ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے.
قارئین کے لیے یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ جہاں توریت، انجیل اور قرآن مجید میں طوفان نوح کا واقعہ موجود ہے وہیں دنیا کے کئی قدیم مذاہب میں بھی طوفان کی داستانیں ملتی ہیں. یونانی مذہب کے اساطیری قصوں میں ملتا ہے کہ آسمان کا دیوتا ‘زیوس’ جب انسانوں سے ناراض ہوا تو اس نے سمندر کے دیوتا ‘پوسیڈون’ کے ذریعے ان پر طوفان نازل کیا. ‘پرومیتھیئسس’ (اول انسان) نے اپنے بیٹے ‘دیوکیلین’ کو خبردار کیا اور کشتی تیار کرنے اور اس میں سوار ہونے کا حکم دیا. طوفان کے آنے پر ‘دیوکیلین’ اور اس کی بیوی ‘پرہا’ کے سوا کوئی نہ بچ سکا. نو دن اور نو راتوں کے بعد طوفان تھما اور کشتی کوہ پرناسوس نامی پہاڑ پر رکی. ہندو مذہب میں بھی طوفان یا سیلاب کا قصہ ملتا ہے. جس کی رو سے: وشنو دیوتا کے پہلے اوتار ‘متسیہ’ مچھلی کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہوئے اور کوشل کے راجہ ‘منوجی’ کو سیلاب عظیم سے نجات کی خاطر ایک کشتی بنانے کا حکم دیا. جب سیلاب نمودار ہوا تو مچھلی، منوجی کی کشتی کو اپنے سر سے کھینچتی ہوئی شمالی پہاڑ پر لے گئی اور ایک درخت سے باندھ دیا. یوں سیلاب تمام مخلوقات کو بہا لے گیا مگر منوجی سلامت رہے.
ان تمام قصوں میں جو بات مشترک ہے وہ یہ کہ بنی نوع انسان جب حد درجہ برائی میں غرق ہوکر خدا یا خداؤں کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے تو ان پر طوفان یا سیلاب کی صورت میں عذاب نازل کیا گیا. مگران سب داستانوں میں سب سے قدیم سوا چار ہزار سال پرانی عراق (اریک) سے بادشاہ آشور بنی پال کے کتب خانے سے ملنے والی مٹی کی لوحوں پر لکھی داستان ‘داستان گلگامش’ ہے جس کے پہلے حصے میں اریک کے مہم جو بادشاہ گلگامش کی سفری روداد لکھی ہے اور دوسرے میں ‘اتناپشتم’ نامی شخص کی زبانی ‘سیلاب عظیم’ کا قصہ درج ہے. ان لوحوں کو پڑھنے کا کارنامہ 1870 میں برطانوی ماہر لسانیات جارج اسمتھ (1840- 1876) نے انجام دیا تھا جو اس بات کا حتمی طور پر قائل تھا کہ عراق سے ملنے والا سیلاب عظیم کا قصہ دراصل انجیل میں بیان کیے گئے طوفان نوح کا واقعہ ہے.