88

بقرہ عید سے پہلے قربانی

اس ہفتہ اخبار میں شہ سرخی تھی کہ زینب کے ساتھ زیادتی کرنے والے درندے کو عدالتی حکم پہ عمل در آمد کرتے ہوئے پھانسی کے پھندے پہ لٹکا دیا گیا ہے۔ یہ روح فرسا واقع امسال جنوری میں ہوا تھا۔ اس وقت کی میڈیکل رپوٹ کے مطابق زینب کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس انکوائری میں بھی یہ حقیقت سامنے آئی تھی۔ حقیر نے اس وقت ایک کالم بعنوان ثنا خوان تصدیق مشرق کہاں ہیں لکھا تھا۔ یادش بخیر گو کہ یہ خبر خوش آئیند ہے مگر پھر بھی کافی سوالات ابھی تک اپنی جگہ پر بدستور موجود ہیں۔میڈیکل رپوڑت اور پولیس انکوائری میں یہ بات ثابت ہو چکی تھی اس بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئ تھی۔ تو سوال ہے کہ باقی بامجرمان کدھر گئے؟
جہاں زینب بیٹی کا واقعہ ہوا وہاں یہ اس نوعیت کا پہلا واقع نہیں تھا یہ بھی پولیس نے بتایا۔ زینب کے واقع سے پہلے بھی اس شھر کے متعلق خبریں عام تھیں کہ اس شھر میں یہ جرم منظم اور بڑے پیمانے پہ ہوتا ہے۔ یہ بھی خبر تھی کہ چونکہ بچوں کی پورنو گرافک فلم کی بڑی مانگ ہے اس لئے بچوں کو اغوا کر کے یہ فلمیں بنائی جاتی ہیں اور فلموں کو بیرون ملک ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ اسی دوران یہ خبر بھی گرم تھی کہ اس شھر کے کچھ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اس غلیظ کاروبار کی پشت پناہی کر رہے تھے اور کچھ اس کاروبار میں شراکت دار بھی تھے۔ اس وقت حکومت ن لیگ کی تھی اور ان معزز ممبران کا تعلق بھی اسی جماعت سے تھا۔ مک مکا کرکے سب لوگ ادھر ادھر ہو گئے ہوں گے۔ جو سوال میرے ذہن میں ابھر رہا ہے وہ یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران اس گھناونے کاروبار کا عینی شاھد ہو اور زینب کیس میں اسے گھسیٹ کر عینی گواھ کو ختم کر دیا گیا ہو؟ کیا دہشت گردی کی عدالت نے اس پہ مزید انکوائری کو مناسب کیوں نہیں سمجھا؟ پنجاب پولیس کا ٹریک ریکارڈ اتنا اچھا نہیں کہ اس پہ اعتماد کیا جاسکے ۔ کیا پولیس نے مکمل انکوائری کی؟ اس مقدمہ پہ جی آئی ٹی کیوں نہیں بنائی گئی؟ کیا مقامی سیاستدانوں کے اثرانداز ہونے کو یکسر مسترد کیا جا سکتا ہے؟ اس کے علاوہ بہت سے سوالات ہیں جو آپکے اذہان عالیہ میں بھی ابھر رہے ہوں گے۔ مندرجہ بالا سوالات کے جوابات نفی میں ملتے ہیں۔
17 اکتوبر کو خبر ملی کہ فورٹ عباس میں ایک زنانہ مجلس عزا میں پولیس نے دھاوا بول دیا اور خواتین کو زد و کوب کیا۔ اسی دوران یہ خبر بھی سننے میں ائی کہ فورٹ عباس میں ایک اور محلہ میں مجلس عزا بپا تھی کہ پولیس نے پہلے ذاکر کو ممبر سے گھسیٹا اور پھر مردوں کو پیٹنا شروع کر دیا۔ کچھ پولیس کے بہادر کارندے خواتین کے پنڈال میں گھس گئے اور خواتین پہ لاٹھی چارج کیا۔
سانحہ ماڈل ٹاون کے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوئے۔
اس سانحہ میں بھی گلو بٹ کے کندھے پولیس نے استعمال کئے اور اس کے بعد سے توقیر شاہ اور گلو بٹ لا پتہ ہیں۔
بعینہی زینب کیس میں بھی عمران نامی شخص کو مجرم بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے مگر در حقیقت اصل مجرمان پردہ غیب میں ہیں۔ سوال پھر وہ ہے کہ اجتماعی زیادتی کے باقی مجرمان زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟
شاید وہ وقت آ جائے کہ زینب اور اس جیسی مزید بیٹیوں کی روح صاحبان اقتدار کے ضمیر کو جھنجھوڑے اور ان کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہو جائے۔
بحرحال سر دست ایسا ہی لگتا ہے کہ عمران کی بلی ہو گئی ہے۔ عید سے پہلے ہی قربانی ہو چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں