رپورٹ و تصاویرعارف محمود کسانہ: برما میں روہنگا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف سویڈش پارلیمنٹ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیاگیا ۔ یہ مظاہرہ میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کے سویڈن کے دورہ کے موقع پر کیا گیا۔ جس وقت مظاہرین برما میں روہنگا اقلیت پر ہونے والے مظالم کے خلاف نعرے لگارہے تھے عین اس وقت آنگ سان سوچی سویڈش پارلیمنٹ کے اسپیکر اور دیگر اراکین پارلیمان سے ملاقات کررہی تھیں۔ مظاہرین نے برما میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کی تصاویراٹھا رکھی تھیں۔ مظاہرین جن میں خواتین بھی شامل تھیں ،ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن پر برما میں حکومتی سرپرستی میں ہونے والی زیادتیوں کا ذکر تھا۔ مظارین سے خطاب کرتے ہوئے سویڈش روہنگا ایسوسی ایشن کے صدر ابولاکلام نے کہا کی ہم سویڈن اور عالمی برادری سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ برما کی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہاں روہنگا عوام پر ہونے والے مظالم بند ہوں۔انہوں نے کہا لوگ جنگلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور انہیں کھانے پینے اور ادویات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ وہاں دہشت اور خوف کا راج ہے اور حکومتی سرپرستی میں ان پر ظلم جاری ہے۔ عالمی برادری برما کی حکومت کو اس ظلم سے روکنے کے لئے اپنا کرادر ادا کرے۔ آن سنگ سوچی جسے امن کا نوبل انعام ملا ہے وہ اس وقت اسٹیٹ کونسلر او ر حکومت کی سربراہ ہیں لیکن حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کشمیر کمیٹی سویڈن کے صدر کونسلر برکت حسین نے اس موقع پر کہا کہ ہم سب روہنگا مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور ان پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔قبل ازین برما کی رہنماء سوچی نے سویڈش وزیر اعظم سٹیفن لوفوین سے ملاقات کی اور بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرس میں سویڈش وزیراعظم نے برما میں روہنگا مسلمانوں پر ہونے والی زیادیتیوں پر سخت تشویش کا اظہا رکیا اور وہاں حلات بہتر بنانے پر زور دیا۔ سویڈش ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے برما کی رہنماء پر شدید دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ہاں حلات میں بہتری کے لئے اقدامات کریں۔