217

ایک ماضی ہوا، اک حال ہے اب

ایک ماضی ہوا، اک حال ہے اب
ہر نیا دن ہی نیا سال ہے اب

کروٹیں لیتا ہوا تیز چلا
وقت کی دیکھو یہی چال ہے اب

ماں یہ کہتی ہے مرے جیتے جی
دور کیوں مجھ سے مرا لال ہے اب

دل سنبھلنا ہی تو ہے مشکل جاں
یارو اپنا تع یہ احوال ہے اب

ٹھہرو جانے سے پہلے سوچ تو لو
اس طرف ایک نیا جال ہے اب

ہی کوئی اپنی طرف کھینچتا ہے
جس طرف دیکھیئے پنڈال ہے اب

اپنے وعدے وہ نبھائیں گے تو کب؟
دیکنا ہم کو یہ امسال ہے اب

خُوب گُل چھرے اڑانے میں مگن
دیکھیئے کتنا وہ بے حال ہے اب

سرفراز عابدی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں