271

ایک ادھوری کھوج

بچوں کو پاکستان کی سیر کرانے کی غرض سے ہم نے کراچی سے پشاور بذریعہ سڑک سفر کاانتخاب کیا اور 7مارچ 2015کی ایک خوشگوار صبح 7 بجے ہم کراچی سے روانہ ہوئے ۔ چونکہ سفر طویل تھا اور گاڑی میں اتنے لمبے سفر کا پہلا تجربہ تھا تو ہم نے پہلے سے ہی ڈرائیور کو کچھ مقامات بتا رکھے تھے جہاں آرام ، کھانا اور عزیز و اقارب سے ملاقات کا ارادہ تھا۔

عادت سے مجبور ہم نے اپنی فیس بک پروفائل پر اپنے سفر کی لمحہ بہ لمحہ تشہیر بھی شروع کر دی اور سویڈن میں ہمارے دوستوں کی دعاوں ، مشوروں اور تلقین و تنقید کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔دوستوں کی فکر بے وجہ نہیں تھی آئے دن نیوز چینلز پر پاکستان کی جو تصویر دکھائی جاتی ہے اُس سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بسنے والے بھی اس طرح کے سفر سے کتراتے ہیں۔ بہرحال حیدرآباد میں چائے کے مختصر وقفے کے بعد ہمارا اگلا پڑاو صوبہ سندھ کا قصبہ روہڑی تھا جو ضلع سکھر میں دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔

ہم اپنی اگلی منزل کی طرح قومی شاہراہ کے راستے رواں دواں تھے تب ہی ہماری نظر ایک عظیم الشان آسمان کو چھوتی عمارت پر پڑی اور بچوں کے بے حد اسرار پر ڈرائیور سے گزارش کی کہ کچھ دیر گاڑی یہاں روکی جائے اور پھر گوگل کی مدد سے پہلے محل وقوع تلاش کیا جس سے پتہ چلا کہ ضلع خیرپور کے قصبے کو ٹ ڈیجی میں تعمیر یہ کوٹ ڈیجی قلعہ تھا۔
محکمہء آثار قدیمہ سندھ کے سرکاری رکارڈ کے مطابق سینکڑوں سال پہلے تالپور خاندان نے 1785 سے 1795 کے درمیان یہ قلعہ سندھ کے صحرا کے کنارے ضلع خیرپور کے قصبے کوٹ ڈیجی میں تعمیر کیا۔اور آج یہ کوٹ ڈیجی کے نام سے مشہور ہے۔

کراچی سے پشاور کا سفر لگ بھک چوپیس گھنٹوں کا تھا اور دورانِ سفر ہم نے چائے، کھانے اور آرام کے لیے وقفے بھی لینے تھے۔ڈرائیور نے جب ہمیں یہ احساس دلایاتو اندازہ ہوا کہ اس عالیشان قلعہ کو تصویروں میں قید کرنے اور اس مقام کو کنگھالنے کا وقت ہمارے پاس نہ ہونے کے برابر ہے۔ میں نے دور سے ہی قلعے کی کچھ تصویریں اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیں۔

5کلومیٹر رقبے پر پھیلا یہ قلعہ 110 فٹ اُنچی پہاڑی پر تعمیر ہےاور قلعے کی دیواریں مزید 30 فٹ بلند ہیں۔ حکمتِ عملی کے لحاظ سے یہاں تین ٹاور بھی ہیں جن کی بلندی تقریبا 50 فٹ کے لگ بھگ ہے۔ کوٹ ڈیجی قلعے کی تعمیر چونے کے پتھروں اور مقامی ساختہ اینٹوں کی مدد سے کی گئی تھی۔
قیام اور حفاظتی انتظامات ناقص نظر آئے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ جگہ سیکیورٹی کے اعتبار سے محفوظ ہے۔ حکومتی عدم توجہ، ناقص منصوبہ بندی اور سیکیورٹی خدشات کے باوجو د پاکستان کی سیاحت کے شعبے میں ترقی کسی معزے سے کم نہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے ٹریول اینڈ ٹورزم کے مسابقتی انڈیکس 2017 کے جاری کرہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان نے سیاحت میں عالمی طورپر اپنی پوزیشن ایک درجے بہتر کر لی ہے۔
کاش !حکومتِ پاکستان ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے واضح پالیسی بنائے تاکہ جلد پاکستانی سیاحت ترقی کی راہ پر گامزان ہو ۔ اسی دعا کر ساتھ ہم گاڑی میں سوار ہوئے اور روہڑی کے لیے روانہ ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں