پاکستان 1947 میں برطانوی راج سے آزادی حاصل کر کے دنیا کےنقشےپہ نمودار ہوا۔
اسی مناسبتسے استونیا کےشہرتالین میں شاندار تقریب کا انیقاد کیا گیاجس میں طالبعلموں،ملازمت پیشہ افراد اور کاروباری برادری نے بڑی تعدادمیں شرکت کی، سب نے رنگا رنگ روایتی لباس اور ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم تھامے ہوئے تھے جو تقریب کو چار چاند لگا رہے تھے۔

ٹاؤن ہال میں تقریب کا آغاز 18:30پر قومی ترانہ سے کیا گیا جسےسب نے خاموشی اور عقیدت سے سنا ۔ پھر سرسبز ہلالی پرچم سے سجاکیک کاٹا گیا اور سب نے آزادی کے مٹھے ذائقے کو اپنی زبانوں سے محسوس کیا۔اس تقریب میں پاکستانیوں کے علاوہ اسٹونین افراد اور کچھ سیاحوں نے بھی شرکت کی۔قومی نغمے اور پاکستان زندہ باد کے نعروں نے پورے ہال کو عقیدت اور حبُ الوطنی کے جذبے سے سرشار کردیا۔

ایک ڈاکٹریٹ کے طالب علم کا کہنا تھا کہ، "مجھے اس طرح سے ایستونیا میں اپنا پہلا جشن آزادی منانے پر بےحد خوشی ہوئی ہے، دراصل میں تارتو میں رہتا ہوں اور آج اس تقریب کے لئے خاص طور پر تالین آیا ہوں مجھے ہمیشہ سے ہی یہاں ہونے والی پاکستانی ثقافتی اور قومی تقریبات میں شامل ہونے کا شوق رہا ہے اور جب میں نے تالین میں ہونے والے جشن آزادی کے پروگرام کے بارے میں سنا تو میں نے یہاں آنے کا فورا منصوبہ بنا لیا. آج یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہم پاکستان میں جشن آزادی منا رہے ہیں ”

ایستونیا کے مختلف شہروں میں گزشتہ دو برسوں سے پاکستانی کمیونٹی میں حیران کن اضافہ ہوا ہے. لوگ پرامن طریقے سے یہاں رہتے ہیں اور اپنی منفرد صلاحیتوں کے ساتھ ایستونیا کی خدمت کر رہے ہیں. ہر سال 14 اگست کو یہ شاندار طریقے سے آزادی کے دن کو مناتے ہیں ۔ آنے والے برسوں میں ایستونیا میں زیادہ سے زیادہ پاکستانی ثقافتی اور روایتی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں جو کہ کافی خوش آئندہ بات ہے