سونیا باورچی خانے میں کھڑی ناشتہ بنا رہی تھی. یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا دو کمروں، باورچی خانے اور تنگ کھڑکیوں والا ایک گھٹن زدہ گھر۔
چائے اپنے رنگ پر آنے کو تھی جب نجمہ خالہ وہاں آئیں. چہرے پر اب بھی ناراضگی اور آنکھوں میں غُصہ تھا۔
سونیا نے اُن کی آہٹ محسوس کر لی تھی اور اُن کا غُصہ بھی۔
” کیا بات ہے خالہ آپ اب تک ناراض ہیں؟” سونیا نے عام انداز میں بنا اُن کی طرف پلٹے سوال کیا۔
” تو کیا نہیں ہونا چاہیئے؟ اچھی بھلی سمجھدار ہو کر بھی ایسی حماقت؟” نجمہ خالہ کے لہجے میں رات والی تلخی تھی۔
” مُجھے نہیں پتا تھا کہ کسی کی جان بچانا حماقت کہلاتا ہے اور کسی بے آسرا کو پناہ دینا گناہ ہے” اب سونیا بھی سنجیدہ تھی۔
” تم نہیں جانتی سونیا! جو لوگ گناہوں کی غلیظ دنیا میں رہنے کے عادی ہوجاتے ہیں گناہ ان کی فطرتِ ثانیہ بن جاتا ہے۔ وہ موقع ملتے ہی اپنی فطرت کا رنگ دکھا دیتے ہیں. میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ تم اس لڑکی کو اپنے گھر سے چلتا کرو۔” خالہ فکرمندی سے بولیں.
”خالہ یہ بے سہار لڑکی مجبوراً اس دلدل میں اتری ہے۔ کوئی بے وفا اسے اپنا مطلب نکال کر گناہوں کی سززمین میں بے یارو مدد گار چھوڑ گیا. واپسی کے تمام راستے اس کے لیے بند ہوچکے تھے ۔۔ زندہ رہنے کے لیے اس نے گناہ کی زندگی کو قبول کیا. میں جانتی ہوں وہ اس زندگی سے خوش نہیں. وہ واپس آنا چاہتی ہے، اسی دنیا میں جہاں پیسوں کے بدلے عورت کی حرمت پائمال نہیں ہوتی. جہاں عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے سوا کسی مکرو پہچان کا حوالہ نہیں. خالہ! وہ بالا خانے کی زینت نہیں بننا چاہتی. وہ خاندانی لڑکی ہے ایک لمحے کی غفلت کی اتنی بڑی سزا نہیں ہونی چاہیے. ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیئے.”
” ٹھیک ہے! لیکن یاد رکھنا سیانے کہتے ہیں کہ گناہ کی عادت پڑ جائے تو گنہگار کے سینے میں دل نہیں رہتا. وہ بچھو بن جاتا ہے اور اپنے محسن کو بھی موقع ملنے پر ڈس لیتا ہے.” خالہ پھر سے وہی باتیں دہرانے لگیں جو کل رات کو کہہ رہی تھی کہ جب سونیا ادا جان کو سڑک پر ہونے والے حادثے کے بعد اپنے گھر لے آئی تھی ۔
"دیکھ سونیا اگر تیرے مینگتر جمال کو ادا جان کی حقیقت کا پتا چلے گا تو وہ کیا سوچے گا؟ خاندان اور محلے والے بھی طرح طرح کی باتیں بنائیں گے.”
"خالہ جب ادا کا ایکسیڈنٹ ہوا اور اسے ہم اپنے گھر لائے تھے،اس وقت جمال میرے ساتھ تھا. اُسے سب معلوم ہے.”
” کیا؟ پھر تو تُم دونوں پاگل ہو گئے ہو…میرا کام تھا سمجھانا سو سمجھا دیا. پرجان لے کہ جو کر رہی ہے نا وہ ٹھیک نہیں ہے۔”
خالہ اتنا کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں ۔ سونیا نے ناشتہ بنایا اور کمرے کی طرف بڑھی. وہ ایک اسکول میں پڑھاتی تھی پر آج وہ کام پر نہیں گئی اور سارا دن ادا جان کا خیال رکھا. شام کو جمال اور سونیا اُسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے. ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ادا جان کو ذہنی صدمہ پہنچا ہے. اس کی ٹانگ ٹوٹی تو نہیں ہے پر وہ کچھ دن چل پھر نہیں سکتی اُسے دوا کے ساتھ توجہ اور پیار کی بھی ضرورت ہے۔
” جمال آپکو ادا جان کا میرے گھر پر رہنا بُرا تو نہیں لگتا؟” سونیا نے پوچھا۔
” مُجھے بُرا کیوں لگے گا! میں جانتا ہوں ہم بہت اچھا کام کر رہے ہیں خدا نے ہمیں اس نیک کام کا ذریعہ بنایا ہے. ہمیں تو مطمئین ہونا چاہیے.”
رات کا وقت تھا. سونیا کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا ادا جان پھر سے کمرے میں اندھیرا کیے بیٹھی تھی۔
” یہ کیا … تُم پھر اندھیرا کیے بیٹھی ہو، ارے اندھیرے سے میرا دم گھٹتا ہے ادا.” سونیا نے کہا اور بلب
جلادیئے۔
"اندھیروں میں رہنے والے پہلے پہل روشنی کے لیے تڑپتے ہیں سونیا! پھر سوچنے لگتے ہیں کہ شاید روشنی اُن کا نصیب نہیں ہے اور ایک دن اُن کو روشنی سے نفرت ہو جاتی ہے.” ادا جان نے کہیں کھو کر کہا! بہت درد تھا اُس کی آواز میں۔
” کیا مطلب؟” سونیا اُس کے روبرو آ کر بیٹھتے ہوئے بولی۔
” مطلب تُم مُجھے یہاں اپنے گھر لے آئی ہو پر اب میں کیا کروں گی؟ مجھے کون قبول کرے گا؟ میں ایک گنہگار دنیا میں رہنے والی،اس بھلی دنیا میں کیا کروں گی؟”
” ایسی باتیں نہ کیا کرو، ابھی صرف اپنی صحت پر توجہ دو. میں اور جمال ہیں نا تمھارے ساتھ، سب ٹھیک ہو جائے گا اورتم واپس اس دنیا میں آو گی ” سونیا نے تسلی دی۔
” جمال، وہ ایک اچھا انسان ہے. تمھارے قابل ہےاور تُم دونوں بہت اچھے ہو. شادی کب کر رہی ہو اُس سے؟” یہ سوال کرتے ہوئے ادا قدرے پریشان لگی.
"جمال کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے اور مجھے بھی بس خالہ کا ہی سہارا ہے. پر اب ہم دونوں نے مل کر ایک چھوٹا سا آشیانہ بنا لیا ہے. بس جیسے ہی جمال کہیں سیٹ ہو جائے گا، ہم نکاح کر لیں گے اور ایک نئی زندگی شروع کریں گے.
پھر مجھے یہ نوکری کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ جمال نے کہہ رکھا ہے کہ تُم آرام کرنا اور میں کام کروں گا۔” سونیا محبت سے مخمور لہجے میں بولی.
"خوش قسمت ہو تُم سونیا! بہت خوش قسمت……خُدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے.”
” آمین….میں چائے بنا کر لاتی ہوں” سونیا نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلی گئی۔ ادا جان نے خود کو سامنے لگے آئینے میں دیکھا. تیس سال کی عمر ہونے کے باوجود وہ اب بھی بہت دلکش تھی۔ ایک پل کو ادا جان نے محسوس کیا کہ جیسے اُس کا عکس اسے کہہ رہا ہو کہ موقع بھی ہے اور دستور بھی ۔۔۔ کر گزرو دیکھا جائے گا.
دوپہر کا وقت تھا جب سونیا نے جمال کو کال کی۔
” ہاں بولو سونیا سب خیریت؟”
” جی، وہ آج اسکول میں میٹرک کے پپر ہو رہے ہیں، میری ڈیوٹی ہے اور میں شام سے پہلے فارغ ہونے والی نہیں. خالہ بھی گھر پر نہیں ہیں۔ آپ اگر فارغ ہیں تو گھر جا کر ادا کو کھانا کھلا کر دوا دے دیں. وہ پریشان ہو رہی ہوگی.” سونیا نے بتایا
” اچھا ٹھیک ہے! تُم فکر نہیں کرو میں جا رہا ہوں اور اس کا پورا خیال رکھوں گا۔”
سونیا شام میں گھر آئی تو ادا سو رہی تھی. جمال نے بتا دیا تھا کہ اُس نے اسے کھانا کھلا دیا تھا اور دوائی بھی دے دی تھی۔
سونیا مطمئین ہو گئی اور جا کر دوسرے کمرے میں سو گئی۔
دو دن گزرے، سونیا صبح جاگی اور ناشتہ بنانے لگی. جب سے ادا جان یہاں مکین تھی خالہ اپنی کِسی واقف کے گھر رہنے لگی تھیں. آج بھی وہ گھر نہیں تھیں۔
سونیا ناشتہ لے کر کمرے میں آئی تو ادا جان وہاں نہیں تھی ۔
” ادا! کہاں ہو تم؟” سونیا نے پہلے آواز دی اور پھر سارے گھر میں اُسے تلاش کرنے لگی. پر ادا جان وہاں نہیں تھی. سونیا پریشان ہو گئی اور جمال کو کال کرنے لگی پر اُس کا نمبر بند تھا. سونیا نے دوبارہ کال ملائی کہ اُس کی نظر آئینے پر لگے ایک کاغذ پر پڑی۔ وہ آگے بڑھی اور پڑھنے لگی۔
” تُم روشنی تھی سونیا اور میں اندھیرا…. میں اس قابل ہی نہیں تھی کہ تم مجھے اتنی اہمیت دیتی۔ اتنے دن میرا خیال رکھنے کا بہت شکریہ مگر میں مزید یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔ میں اپنی وجہ سے تمہیں مشکل میں نہیں ڈال سکتی۔ تمہارے اپنے نہیں چھین سکتی. سونیا! میں جانتی ہوں کہ خالہ میرے یہاں رہنے پر خوش نہیں ہیں اور جمال۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوچے، میں یہاں سے جا رہی ہوں۔ میں تم سے تمہاری خوشی نہیں چھین سکتی۔ میں نے تم سے حقیقی روشنی کشید کی ہے. میں اندھیروں سے نکل آئی ہوں سونیا ۔۔۔ خالہ کو واپس بلا لو اور انہیں کہنا کہ ایک طوائف ایک عورت ہوتی ہے اور عورت کی فطرت میں طوائف ہونا نہیں ہوتا۔ اس کے گرد و پیش کے لوگ اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ، وہ کچھ کرے جو وہ چاہتے ہیں. میں اندھیروں کی باسی تھی سونیا! تم نے مجھے روشنی دی اور میں نے تمھیں تمھارا جمال ۔۔۔۔ اپنا خیال رکھنا”۔