پاکستان کے شہر قصور میں زینب بیٹی کاقتل انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور مذمت کرنے کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔ انسان اور بیٹی کا باپ ہونے کے ناطے سر شرم سے جھک جاتا ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔ افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑ رہی ہے کہ یہ شرم ناک واقع نہ پہلا ہے اور نہ ہی آخری ہے ۔

اس سے پہلے سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسانیت سوزواقعات ہوچکے جن میں معصوم بچی اور بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرکے قتل کردیا گیا ہے۔ دن دھہاڑے نہتے لوگوں کو قتل کردیا جاتا۔ کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ وڈیروں اور چوہدریوں نے غریب اور کمزورو کی بیٹیوں کو دن کے اجالے میں اٹھالیا ہے۔ عورتوں کو برہنہ کرکے گلی محلوں میں پھرایا گیا ہے۔

ہرانسانیت سوز واقع قیامت سے کم نہیں مگر ہم ایک قیامت کے بعد دوسری قیامت کے انتظار میں رہتے ۔ فیسبک اور دوسرے سماجی سائٹ پر مذمت کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے ہم نے اپنی ذمہداری پوری کردی ہے مگر ہماری انسان ہونے کے ناطے ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔

حالات اور واقعات کی شدت نے ہم کو بے حس کر دیا ہے

اور یہ بے حسی ہی ہے جس کی وجہ سے ہم اس قسم کے غیر انسانی واقعات کے باوجود قوم بن کر باہر نہیں نکلتے۔ یہ بے حسی ہی ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کے ساتھ عورت کے احترام کی بات نہیں کرتے۔ ہمارے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے قوائد وضوابط مختلف ہوتے ہیں۔ بعض لوگ بیٹوں کی بد کرداری پر فخر کرتے ہیں مگر بیٹیوں کے باہر نکلنے پر بھی پابندی ہوتی ہے اور یہ قول و فعل میں تضاد ہی بے حسی ہے۔

وہ معاشرہ جس میں عورت کا گھر سے نکلنا اذیت کا باعث ہو۔ وہ معاشرہ جس میں مرد عورتوں پر جملے کسنا اور گندی نظروں کی بوچھاڑ کرنا اپنا حق سمجھے۔ وہ معاشرہ جہاں پر پڑھا لکھا مرد عورت کو پاوں کی جوتی سمجھے ،اس معاشرے کی ماوں سے اپنے بیٹوں کی تربیت میں کوئ بھول ہوئ ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عورت اپنے بیٹےکو نو مہینے اپنے پیٹ میں رکھے اپنا شیر پلاے، اپنی نیند اور آرام کو قربان کرکے اپنی ممتا کے عظیم جذبےسے اس کی پرورش کر کے اس کو لڑکے سے مرد بناے اور وہ مرد پھر عورت کی عظمت کو بھول کر اس سے غیر انسانی سلوک کرے۔

زینب بیٹی سے جو غیرانسانی سلوک ہوا ہے اس کو سیاسی طور پر استعمال کرکے سیاست کی دکان چمکائ گئی اور مختلف ٹی وی چینلز اپنے سامعین کی تعداد بڑھانے کے لیے تمام اخلاقی پہلووں کو بالائے طاق رکھ کرمعاشرتی پستی اور بے حسی کا ثبوت دیا اور لواحقین سے ان کی حالت کی پرواہ کئے بغیر غیر ذمہ دارانہ سوال کئے گئے۔ والدین سے پوچھے بغیر معصوم مقتولہ کی تصویر ساری دنیا میں پھیلا دی۔

بے حسی اور معاشرتی پستی کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ زینب کے لواحقین سے پولیس انعام مانگ رہی ہے کہ انہوں نے انکی مری ہوئ بیٹی ڈھونڈی ہے۔ کسی جگہ کسی کی بیٹی کی عزت لٹ جاتی ہے تو ایف آئ آر کاٹنے کے بجاے لواحقین سے دودھ پتی منگوایا جاتا ہے کسی جگہ لاکھوں کی رشوت مانگی جاتی ۔پہلے ایک لٹیرا لوٹتا تو پھر محافظ لٹیرا بن جاتاہے۔ عدالتوں کے اندر انصاف بکتا ہے تو عدالتوں کے باہر تھانہ بک جاتا ہے۔ آخر کب تک ؟

ہم کب ایک قوم بن کر ظلم اور نا انصافیوں کے خلاف کھڑے ہونگے ؟ ہم کب کلمہ حق پڑھیں گے؟

انسان ہونے پر فخر تو ہے مجھ کو۔انسانیت میری پر زوال ہے
“باتیں تو میرے پاس بہت ہیں لیکن چھوڑو،
دیواروں کے کیا منہ لگنا”