سٹاک ہوم (عارف کسانہ نمائندہ خصوصی ) تارکین وطن کہیں، پردیسی کہیں یا مہاجرین ملک چھوڑنے والے کبھی اپنی مادر وطن کو نہیں بھولتے اور با شعور و تعلیم یافتہ تارک وطن یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ وہ غیر ملک میں اپنے وطن اور ثقافت کا سفیر ہوتا ہے – اس کا کردار، اطوار، گفتار اس کے ملک کی نمائندگی کرتا ہے اور غیر ملک میں اس کے آبائی ملک کا تاثر چھوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی طلبہ کی یہ کوشش رہی ہے کہ جہاں موقع ملے پاکستان کی نمائندگی کر کے پاکستانی ثقافت اور اقدار کی خوبصورتی اجاگر کریں اور دنیا میں پھیلا پاکستان بارے غلط تاثر زائل کریںـ ایسی ہی ایک تقریب شمالی یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک اسٹونیا میں منعقد ہوئیـ یونیورسٹی آف تارتو جو کہ دنیا کی چار سو بہترین جامعات میں شمار ہوتی ہے میں کلچرل ڈے میں پاکستانی طلبہ نے بھی حصہ لیا اور مغربی میڈیا کے پاکستان بارے پراپوگنڈے کو ناظرین کے سامنے بخوبی زائل کیا۔تقریب میں شرکت کا سہراڈاکٹر یار محمد مغل کے سر جاتا ہے جو اسٹونیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو قریب لانے کی کوششوں میں مگن ہیںـ پس منظر میں پاکستانی ملی نغموں کی دھن میں جب پاکستانی لڑکے و لڑکیاں قومی و علاقائی لباس میں ملبوس اسٹیج پر آئے تو حاضرین تالیوں کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے کہ سندھی اجرک ہو ، بلوچی پگڑی ہو، پختون ٹوپی ہو یا پنجابی کرتہ سب کی اپنی آب و تاب ہےـ ایسے ہی مغربی تہذیب کی ڈسی عورتیں پاکستانی خواتین کا باعزت اور باوقار لباس دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیںـ بعد ازاں پاکستانی کا تصویری تعارف کرایا گیا۔ بہتے دریا، لہلاتے کھیت، روشن چہرے دیکھ کر پاکستان کا ایک ایسا تاثر ابھرا کہ مشرق میں پاکستان ایک روشن ستارہ ہے جو ایک روز تمام دنیا کو جگمگائے گا۔ مزید برآں پاکستان میں علاقائی و ثقافتی تنوع دیکھ کر ناظرین انگشت بدنداں رہ گئے کہ پاکستان ایک ایسا عجوبہ ملک ہے جہاں بیک وقت صحرا بھی ہیں اور برف زار بھی، درجہ حرارت پچاس تک بھی پہنچ جاتا ہے اور منفی تیس تک بھی، سرسبز پہاڑ بھی ہیں اور دشت زار بھی، سمندر بھی ہیں اور دریا بھی۔ پاکستانی ثقافت کو مزید واضح کرنے کو شرکا نے ملنے ملانے ، اٹھنے بیٹھنے، بنیادی آداب سے بھی ناظرین کو آگاہ کیا جس کو ناظرین نے خوب پسند کیا۔ ناظرین نے پاکستانی علاقائی رقص میں بھی خوب دلچسپی ظاہر کی اور ہے جمالو کی تان پر پاکستانی و غیرملکیوں نے خوب لڈی ڈالی ـحاضرین کی دلچسپی کے لیے ایک چھوٹا سا سوالیہ مقابلہ کرایا گیا جس میں پاکستان کے بارے جواب دینے والوں کو انعامات بھی دیئے گئے۔ پاکستانی شریک دستے میں وہاں ایک اسٹال بھی لگایا جہاں پاکستانی اشیا نمائش کی لیے رکھی گئیں اور جہاں مہندی لگانے کا انتظام بھی تھا جو کہ تمام دن لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا اور کئی غیر ملکی خواتین نے ہاتھوں پر مہندی بھی لگوائی۔ کلچر ڈے کے آخر میں مختلف ممالک کے لوگوں نے اپنے ممالک کے کھانوں کا اسٹال لگایا تھا اور وہاں بھی پاکستانی اسٹال موجود تھا جس میں کئی مقامی کھانے رکھے گئے تھے۔ عام طور پر پھیکے کھانے کھانے والے یورپی پاکستانی کھانوں اور ان میں استعمال کئے گئے مصالحہ جات سے خوب حیران ہوئے اور انہوں نے پاکستانی کھانوں کا خوب لطف اٹھایاـ اور یوں پاکستانی طلبہ نے میں غیر ملک میں اپنے ملک کے سفیر ہونے کی ذمہ داری بخوبی نبھاہی اور اسٹونیا میں پاکستان کے ایک ایسے تشخص کو پھیلایا جو غیرملکیوں تک خال خال پہنچتا ہے۔