مواخات مدینہ کی بنیاد پر رسول اکرم ﷺ نے جو معاشرہ تشکیل دیا تھا اسی کی پیروی میں اخوت فاؤنڈیشن 2001ء سے جدوجہد کررہی ہے۔ اپنے دورہ پاکستان میں اس عظیم تحریک کے ساتھیوں سے ملنے کی خواہش تھی جسے محترم ڈاکٹر امجد ثاقب نے ہمارے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ کی صورت میں پوری کردی۔ اخوت بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ڈاکٹر کامران شمس، ڈاکٹر اظہارالحق ہاشمی، پروفیسرہمایوں احسان، سلیم احمد رانجھا، فضل یزدانی، جنید فرید کے علاوہ ڈاکٹر فرید لغاری اور ابوبکر صدیق اور دیگر احباب سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ پاکستان سے غربت اور جہالت کو ختم کرنے کا عزم لئے تاریخ ساز جدوجہد میں یہ سب عظیم لوگ ڈاکٹر امجد ثاقب کے دست و بازو ہیں۔ اخوت فاؤنڈیشن کے صدر دفتر کا دورہ کرکے دلی مسرت ہوئی اور اس ادارہ کے کام کرنے کا منفرد انداز دیکھا۔یہاں احسن باللہ، ریحان، عثمان شاہد،نیلم گل اور عملہ کے دیگر افراد سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اخوت کے کام کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ سادگی اور کفایت شعاری جو جو انداز یہاں اپنایا گیا ہے اگر وہ پاکستان کے سرکاری دفاتر میں بھی ہو تو قومی سرمایہ کی بچت ہوگی۔ اخوت کے دفتر میں چائے یا کافی نہیں پیش کی جاتی اور بیشتر فرشی دفتر ہیں اورشمسی توانائی سے پوری عمارت کا نظام چلتا ہے۔ کلاتھ بینک میں خواجہ سرا جس مہارت اور لگن سے کام کررہے تھے اور ان کے جذبات کو الفاظ کے پیرائے میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہیں ایک ایسا سکول بھی قائم ہے جو جھگیوں رہنے والے بچوں کی درسگاہ ہے۔ اخوت یونیورسٹی کا دورہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ پاکستان کے کونے کونے سے مختلف رنگ و نسل، مذاب اور زبان بوالنے والے بچے یہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں گویا یہاں منی پاکستان آباد ہے۔ کالج کے پرنسپل شیر افگن، کرنل منعم ریاض، سید تیمور، ابوبکر صدیق اور وقاص احمد نے ہمیں کالج کے مختلف شعبہ جات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ سویڈن میں اخوت ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے اور وہاں مقیم پاکستانی دل کھول کر اخوت کو عطیات دیتے ہیں اور انہی کی معاونت سے اخوت یونیورسٹی میں ایک ایسا کمرہ تعمیر کیا گیا ہے جس میں چاروں صوبوں سے ایک ایک طالب علم رہائش پذیر ہے۔ راقم کے لئے یہ بہت بڑی خوشی کا لمحہ تھا جب اس کمرے کا افتتاح کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ جامعہ پنجاب، اورنٹیل کالج لاہور کے شعبہ پنجابی نے شیرانی ہال میں بابا فرید اور بابا گرونانک انٹرنیشنل کانفرس کا انعقاد کیا۔شعبہ پنجابی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمن کی دعوت پر اس میں اظہار خیال کا موقع ملا۔ رکن پنجاب اسمبلی زینب عمیر، پروفیسر ڈاکٹر عباد ندیم، ڈاکٹر اختر جعفری،پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمن اور کینڈا سے آئی ہوئی مہمان گورمیت کورکے علمی خطابات سننے کا موقع ملا۔پروفیسر ڈاکٹر اخلاق گیلانی، ڈاکٹر محمد سلیم، نوجوان کالم نگار ملک شفقت اللہ، شاعر و ادیب انیس احمد اوراقبال اکیڈمی لاہور کے فہیم اورشدچوہدری خصوصی طور پر ملنے کے لئے تشریف لائے اور شریک محفل ہوئے۔ ایوان اقبال کپملیکس میں اقبال اکیڈمی کا دورہ بھی لاہور کی اہم مصروفیت تھی۔ یہاں ہونے والی ایک اہم اجلاس میں شرکت کی کی جس میں محمد نعمان چشتی، ہارون اکرم گل اور فہیم ارشد شریک تھے اور یہ فیصلہ ہوا کہ اقبال اکیڈمی اسیکینڈے نیویا کی تنظیم نو کی ذمہ داری راقم کے سپرد ہوگی۔ بچوں کے مقبول ترین ماہنامہ پھول کے مدید محمد شعیب مرزا سے ان کے دفتر میں ہونے والی ملاقات میں بچوں کے ادب کے حوالے سے بہت مفید بات چیت رہی۔ قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کا دورہ بہت متاثر کن تھا۔ شعیب امام اور احمد آفتاب نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن نے ادبی اور تخلیقی کام کرنے والوں کو متعارف کرانے کا ایک سلسلہ شروع کررکھا ہے، اسی سلسلہ میں شعیب امام نے راقم کا انٹرویو کیا جسے بہت پسند کیا گیا۔ لاہور کی ایک اہم مصروفیت فاؤنٹین ہاوس کا دورہ تھا۔ ڈاکٹر رشید چوہدری نے دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے یہ ادارہ 1963 ء قائم کیا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب اس ادارہ کی بھی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں اور ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر افضل جاوید بھی اب کے معاون ہیں۔ وہ برطانیہ کے ایک ہسپتال سے وابستہ ہیں ورلڈ سکائیکاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ انہوں نے ہمیں فاؤنٹین ہاوس کا دورہ کروایا اور اس انسانی خدمت کے اس ادارہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ یونیورسٹی دور کے ہم جماعت دوستوں سے ملاقات کے لئے ڈاکٹر ناصر کاظمی نے اپنے گھر پر ایک خوبصورت شام سجائی جس میں ڈاکٹر سید کمال ناصر، ڈاکٹر محمد حسین، ڈاکٹر سید سبطین رضوی، ڈاکٹر محمد فاروق، ڈاکٹر ساجد اظہر، ڈاکٹر امیتاز، ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر حبیب الرحمن اور ڈاکٹر راحمت الامیم اسددور دراز سے شریک ہوئے اور سنہری یادیں تازہ کیں۔

سویڈن کی پاکستان میں سفیر انگرید جوہانسون سے اسلام آباد میں سویڈن کے سفارت خانہ میں بہت خوشگوار ملاقات ہوئی۔ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ انہیں اپنی کتب افکار تازہ اور سویڈن کے قومی ترانہ کا اردو میں ترجمہ ایک پورٹریٹ کی صورت میں پیش کیا۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد اور اکادمی ادبیات کا دورہ بھی ہمارے سفر کا اہم حصہ ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن اعلیٰ معیار کی علمی، معلوماتی اور ادبی کتب بہت کم قیمت پر اہل وطن کے لئے پیش کررہا ہے جو قابل ستائش ہے۔ اسی ادارہ نے راقم کی بچوں کے لئے دو کتابیں سبق آموز کہانیاں 1اور2شائع کی ہیں۔ ادارہ کے چئیرمین ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے ہماری بہت عزت افزائی کی۔ ان دنوں وہ اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کے بھی سربراہ تھے۔ انہوں نے اکادمی ادبیات کے تحت پانچ روزہ تقریبات بسلسلہ یوم اقبال میں ایک مجلس مذاکرہ میں شرکت کی دعوت دی۔ فروغِ فکرِ اقبال اور بیرون ملک پاکستانی کے عنوان سے ہونے والی اس اہم نشست میں راقم کے علاوہ دیگر ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں نے فروغ فکر اقبال کے حوالے سے اپنے اپنے ممالک میں ہونی والی سرگرمیوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس محفل میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید او ر معروف ماہر اقبالیات پروفیسر فتح محمد ملک بھی شریک تھے۔ دنیا بھر میں فروغ فکر اقبال کے فروغ کے لئے ہونے والے کام سے آگاہی ہوئی۔ آٹھ سال بعد پاکستان میں پانچ ہفتے بھرپور انداز میں گزرے۔ قرابت داروں، دوستوں اور اہل وطن کی محبتوں کو ساتھ لئے ہوئے وطن ثانی کی طرف واپسی ہوئی۔ بڑے بھائی طارق محمود چوہدری اور بھابی نے اسلام آباد سے ہمیں رخصت کیا اور ہم سویڈن کے لئے روانہ ہوئے۔