58

آج کی بات: روئے زمین پر انسان سے بڑا جنگجو کوئی نہیں

انسان فطرتاً اور پیدائشی طور پر جنگجو ہے۔ عموماً جب لیڈر شپ اور جنگجو کی مثال دی جاتی ہے تو کہا یہ جاتا ہے کہ جب آپ مادہ تولیدی کی صورت میں ہوتے ہیں آپ کی جنگ تب سے شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے آپ اس روئے زمین پر آتے ہیں۔ میں نے یہ بات کیوں کی کہ انسان پیدائشی جنگجو ہے؟
جیسے جیسے ہم اپنی شعور کی منزلوں کو طے کرتے ہیں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ دنیا ایک میدانِ جنگ ہے اور ہم مختلف محاذ پر مستقل بنیادوں پر لڑ رہے ہوتے ہیں۔ آغاز میں اس جنگ میں والدین، دوستوں اور رشتہ داروں کی صورت میں لوگ آپ کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن گزرتے وقت کے ساتھ آپ تنہا ہو جاتے ہیں اور بالآخر لڑتے لڑتے زندگی سے ہارتے ہیں۔
یہاں اس بات کو سامنے رکھنے کا مقصد اس اہم بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اپنے بچوں اور خود کو یہ باور کرائیں اور یہ سکھائیں کہ تنہا ان محاذوں پر مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ اپنے بچوں کی تربیت کے دوران ان باتوں پر توجہ دلائیں کہ کیسے وہ مضبوط اعصاب کے ساتھ اور اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کے ساتھ اس دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ کیونکہ حالات ان کو ایک جنگجو کی طرح دیکھتے ہیں اور جو اپنے آپ کو جنگجو نہیں سمجھتا ہے وہ اس دنیا میں اپنی ہار تسلیم کر کے بہت برے طریقے سے زندگی سے بھی ہار جاتا ہے۔ اپنے بچوں کو حقیقی دنیا سے متعارف کروائیں اور انہیں جینا سکھائیں۔ انکی مدد کریں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کر کے اس دنیا میں کس طرح بہتر طور پر رہ سکتے ہیں۔ شاہین بھی ایک وقت کے بعد اپنے بچوں کو دھکا دیتا ہے کہ وہ اپنے پر پھیلائیں اور حقیقت کو تسلیم کریں کہ وہ شاہین ہیں۔
اپنے بچوں کو ان کا آپ پہچاننا سکھائیں جو خود تمام کامیابیوں کی جڑ ہے اور اپنے آپ میں ایک ایسا ہتھیار جو نہ آپ کو نہ آپ کی آل کو کبھی میدانِ جنگ میں مایوس کرے گا۔ شاہین اس لئے اتنا خود اعتماد ہوتا ہے کیونکہ اسے اپنے شاہین ہونے کا پتہ ہوتا ہےاور اپنے بازوؤں پر بھروسہ ہوتاہے۔ اس امید کے ساتھ آج کی بات کو اختتام پزیر کرتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کی کھوج جاری رکھیں گے اور ہر محاذ پہ ڈٹے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں