روز گذشتہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان نیازی صاحب کا قوم سے کیا گیا خطاب اندرون ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بغورسنا. اگرچہ یہ کوئی نئی طرح نہیں ڈالی گئی ہے عمران خان صاحب سے پہلے پاکستانی قوم 21 وزرائے اعظم کے خطابات سماعت کرچکی ہے تاہم عمران خان صاحب کے بحیثیت وزیراعظم قوم سے پہلے خطاب کی دل کو چھولینے والی بات یہ تھی کہ حاکم وقت عوام الناس کی سطح پر کھڑا دکھائی دیا.انہوں نے نہ صرف ان مسائل کی نشاندہی کی جو پاکستان کی عام عوام کو مدتوں سے درپیش ہیں بلکہ ان کی مشکل کشائی کی راہیں بھی بتائیں.
بدقسمتی سے ہمارا معاشرتی نظام ایسا ہے کہ حکمرانوں اور عوام میں طبقاتی فرق اتنا زیادہ ہے کہ حکمرانی اور غلامی کا تاثر ملتا ہے.اس بات کا اندازہ عمران خان صاحب کی تقریر کے اس حصے سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے قوم کو بتایا کہ وزیراعظم کی رہائشگاہ میں 520 خدمتگار، 80 گاڑیاں ، 52 افسران نظام مراسم (پروٹوکول) کے لیے اور لاکھوں روپے روزآنہ خرچے کے مد میں استعمال کیے جاتے ہیں. افسوس صد افسوس یہ ایک ایسے ملک کے حاکم کا حال ہے کہ جہاں آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہے. قوم کی گرفتگی اور رنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ہر طرح کی امید کی لو بجھ چکی ہے. ہمارا معاشرہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عملی تصویر نظر آتا ہے. ایسے حالات میں اگر حاکم وقت عوام الناس کے دکھوں کو محسوس کرے اور انداز شاہانہ سے کنارہ کشی کرکے قوم کی فلاح و بہبود کی فکر کرے تو کیوں نہیں اس گردوں وقار کو سر آنکھوں پر بٹھایا جائے گا. بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے عمران خان صاحب کے ناقدین بھی کل کے خطاب پر داد دیئے بناء نہ رہ سکے. اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ ”دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے” معاملہ یہ بھی ہے کہ نئے حاکم وقت کے قول و فعل میں مماثلت بہت ہے جو کہ فی زمانہ خلاف دستور ہوکے رہ گیا ہے.
ہم نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو نہیں دیکھا مگر تاریخ گواہی دیتی ہے کہ کس نیک نیتی سے انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے قوم کے درد کا درماں کیا. تاریخ بھی عجیب چیز ہے دیر یا سویر سب ہی کچھ کھول کے رکھ دیتی ہے پاکستان کے اکھتر سال ہمارے سامنے ہیں اور سب ہی جانتے ہیں کس حکمران نے قوم کے لیے کیا کیا اور کتنوں نے عوام کے حقوق مار کے سرکاری خزانوں کو ”مال مفت دل بے رحم کی صورت” استعمال کیا. وزیراعظم عمران خان صاحب کا صرف خطاب سن کر لوگ ان سے اچھے دنوں کی امید نہیں باندھ بیٹھے ہیں ان کا طرز عمل و بود وباش اس بات کی دلیل ہے کہ اب کی بار ایک صاحب دل و صاحب فکر حکمران ان کا مقدر بنا ہے جو اپنے نبی صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت پر چلنے کا خواہشمند ہے ناکہ اقتدار کے نشے میں حاکمیت کی خوبو کا خواہشمند.
آج ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر کریں کم ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ پاکستان اور پاکستانی عوام منجدھار مشکلات میں مکمل طور پر پھنسے ہوئے ہیں کوئی تو ایسا صادق اور امین رہبر ملا جو مکمل نیک نیتی سے ہماری دادرسائی کر سکتا ہے. وہ نہ صرف ہمارے حال کو درست راہ پر لانے کا خواہشمند ہے بلکہ ہماری نسلوں کا مستقبل محفوظ کرنے کا عزم بھی رکھتا ہے . یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ بحیثیت عوام ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جن کا بار اٹھانا ہمارا اخلاقی، معاشرتی اور دینی فرض ہے. ہمیں بھی اب خواب غفلت سے جاگنا ہوگا تاکہ بدعنوان، بےرحم اور غرور شہنشاہیت میں ڈوبے حکمرانوں کو خود پر مسلط ہونے سے روک سکیں.